نفاق سے اپنے آپ کو بچائیں

 حکومتی نفاق

یہ ایک المیہ ہے کہ آج کی بڑی بڑی حکومتیں خود کو انسانیت اور انسانی حقوق کا علمبر دار ظاہر کرتی ہیں ۔ عدل و انصاف کا نعرہ بلند کرتی ہیں لیکن چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو اپنی عمل داری میں مجبور کر کے رکھتی ہیں  چھوٹی حکومتوں کے سربراہ اپنی حکومتوں کے تحفظ کے لئے اسلحہ کی خریداری پر مجبور ہیں ۔ وہ غریبوں کے مال سے اپنے خزانے بھر دیتی ہیں ۔ اور اس کے عوض میں انہیں جنگ میں جھونک دیتی ہیں ۔ اس طرح کثیر اسلحہ کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔ حالانکہ بظاہر دوستی اور حمایت کا نام ہوتا ہے۔ حقیقت میں اس کے پس پردہ کوئی غرض ہوتی ہے۔ مصلحت کے تحت وعدہ خلافی بھی کی جاتی ہے۔ اس نفاق کا نام آج کی اصطلاح میں سیاست رکھا گیا ہے۔ یہ ہے آج کے انسانی معاشرہ میں نفاق کی ایک جھلک۔



 تمام لوگ نفاق کی لپیٹ میں ہیں

شوہر، بیوی ، باپ، بیٹے، بھائی اور بہن ، استاد شاگرد غرض سب با ہمی حسن ظن  اور اعتماد سے محروم ہیں ۔ رشتہ داروں میں بھی باہمی نفاق چلتا ہے ۔ ہمسائے بھی اس وبا کا شکار ہیں مشتری اور دکاندار کا بھی یہی معاملہ ہے۔ حیات انسان کی اساسی باہمی اعتماد ہے اور اب یہ اساس کوکھلی ہوچکی ہے۔صحیح معنوں میں نفاق سے پاک مومن خال خال ہی ہیں ۔ اور وہ بھی  دوسروں کے نفاق سے رنجیدہ رہتے ہیں ۔ دوسرے منافق بھی ان کے کھرے کھرے ایمان سے پریشان رہتے ہیں۔

پس ہر فرد پر لازم ہے کہ وہ اس بات پر غور کرے کہ آیا اس میں نفاق تو نہیں۔ اگر ہے تواس عارضہ کو دور کر نے کی کوشش کرے۔ پہلے خود کو نفاق سے پاک کرے، پھر دوسروں کی اصلاح کے لئے اقدام اٹھائے ۔ اور بھی لازم ہے کہ دوسروں کو نفاق کے دنیوی اور اخروی نقصانات سے آگاہ کرے۔

 نفاق کا دنیوی زیاں

کذب اور مکرسے استفادہ کرنے والے شخص کو یہ بات جان لینی چاہئے کہ کذب بھی پنپتا نہیں جلدہی آشکار ہوجاتا ہے۔ اس سے لوگوں کا اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ اس کی بات  بے بھرم سی رہ جاتی ہے۔ اس کے افعال کی کوئی وقعت نہیں رہتی۔ اگر اس کا جھوٹ منکشف نہ ہو تو سمجھ لو کہ خدا نے  اس شخص کو ڈھیل دی ہوئی ہے۔ وہ بھی چاہے نفاق کے ذریعے سے دنیوی دولت اکٹھی کر لے ۔ لیکن ایسی دولت بے فائدہ ہوتی ہے۔ بلکہ دنیا بھر کی پریشانی اور اخروی عذاب کا باعث بنتی ہے۔ آخرت میں اس فرد کا شمار ظالموں میں ہوتا ہے۔ اس نے ظلم سے ان مظلوموں کا مال ہتھیایا تھا ، اس کے عوض میں ظالم کی نیکیاں مظلوموں کے حساب میں دے دی جائیں گی۔ پھر منافق اور ظالموں کا دامن نیکیوں سے خالی ہو جائیگا اور مظلوموں کے گناہ مٹ جائیں گے۔ اگر کذب اورمکر کا مقصد دوسروں کا زیاں ہے ، تو حق الیقین سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اکثر اوقات خود کا ذب اور مکارہی نقصان اٹھاتا ہے۔ ظالم کو اس کے جرم کا بدلہ اسی دنیا میں بھی نصیب ہو کر رہتا ہے۔

ولا يحيق المكر السي الا باهله یعنی مکاری کی برائی تو مکاری کرنے والے پر پڑتی ہے۔ (سورة فاطر : آیت 43)

عربی میں ایک اور مثال ہے۔

من خفر لاخيه جبا وقع فيه مكیا یعنی جو شخص اپنے بھائی کے لئے کنواں کھودتا ہے۔ وہ خودبھی اس میں منہ کے بل گرتا ہے۔ اس موضوع پر آپ کوعرب وعجم کی تواریخ میں کئی واقعات ملیں گے ۔

Ali

a fare looking young man with nice speaking and smile face

Post a Comment

Previous Post Next Post